قرآنِ مجید کی تعلیمات میں داعی اور اہلِ ایمان کے باہمی تعلق کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورۂ الشعراء میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے بازو اُن اہلِ ایمان کے لیے جھکائے رکھو جو تمہاری پیروی اختیار کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس پر سورۂ عبس میں ایک اہم واقعے کے ذریعے خدائی تنبیہ (divine warning) وارد ہوئی تھی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے بااثر اور سردار طبقے کو مخاطب کرتے وقت ایک نابینا صحابی کی آمد بظاہر غیر موزوں محسوس ہوئی، کیونکہ انسانی تقاضے کے تحت یہ گمان ہوتا ہے کہ بااثر لوگوں کی شمولیت سے مشن کو زیادہ تقویت ملے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس طریقِ فکر کی اصلاح فرمائی کہ جو لوگ پہلے سے حق کے لیے آمادہ اور دستیاب ہیں، اُن سے اعراض (art of avoidance) برت کر غیر دستیاب اور بے رغبت افراد کے تعاقب میں وقت اور توانائیاں ضائع کرنا کسی طور درست نہیں۔ دعوت کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ انسان موجود امکانات (available potential) کی پوری قدر شناسی کرے، نہ کہ غیر موجود کے انتظار میں موجود کو بھی نظر انداز کر دے۔
دعوتی مشن میں حقیقی رفیق وہ نہیں ہوتا جس کے پاس محض سماجی رتبہ (social status)، غیر معمولی صلاحیت (talent) یا دنیاوی اثر و رسوخ ہو، بلکہ سچا رفیق وہ ہے جس کے اندر داعی کے ساتھ فکری و قلبی ہم آہنگی (shared feeling and thinking) پائی جاتی ہو۔ انگریزی کا معروف مقولہ ہے کہ انسان کا اصل گھر وہ ہے جہاں اُس کی دلی وابستگیاں ہوں، نہ کہ محض وہ جگہ جہاں وہ بود و باش اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح مشن کے ساتھی وہی افراد بن سکتے ہیں جن کے مقاصدِ زندگی، ترجیحات اور احساسات یکساں ہوں۔ اگر کچھ لوگ ظاہری طور پر کسی تحریک یا مجلس میں شریک نظر آئیں لیکن باطنی طور پر اُن کا نصب العین اور فکری وابستگی مختلف ہو، تو وہ داعی کے حقیقی ممد و معاون نہیں بن سکتے۔ اس کے برعکس جو لوگ کم وسائل اور معمولی ظاہری حیثیت کے باوجود مشن کے مقصد کو اپنا مقصد بنا لیں، وہی اصل اثاثہ ہیں اور داعی کو ہر حال میں انہی کی تربیت اور رفاقت کو فوقیت دینی چاہیے۔
اکثر تحریکوں اور اہلِ دعوت کے سامنے یہ خود فریبی یا التباس (delusion) پیدا ہو جاتا ہے کہ سماج کے معروف چہروں، اہلِ اقتدار یا فن و ادب کی نامور شخصیات کو اگر مشن سے جوڑ لیا جائے تو کام میں غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ بلا شبہ پیغامِ حق پہنچانے کے اعتبار سے کسی طبقے سے بھی گریز نہیں ہونا چاہیے اور ہر انسان تک بProfileلا امتیاز پہنچنا داعی کا فریضہ ہے، خواہ وہ اقتدار کے ایوان ہوں یا سماج کے دیگر گوشے۔ مگر یہ توقع قائم کر لینا کہ ایسی شخصیات دنیاوی مصروفیات چھوڑ کر مشن کا عملی دست و بازو بن جائیں گی، زمینی حقیقت سے ناواقفیت پر مبنی سوچ ہے۔ انسان عملاً وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں اُس کے مفادات اور ترجیحات وابستہ ہوں۔ اس لیے بڑی شخصیات کے تعاقب میں اپنے مخلص اور یکسو رفقاء کو ثانوی حیثیت دینا یا اُن پر سمجھوتہ کرنا دعوتی حکمت کے سراسر منافی ہے۔
اس پوری فکری بنیاد کا عروج قرآنِ مجید کے اس حکم پر ہے: "وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ"۔ داعی کا اصل بھروسہ ساتھیوں کی مادی تعداد، اُن کے غیر معمولی ٹیلنٹ یا وسائل پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا سارا توکل (reliance) خدائے عزیز و رحیم کی نصرت پر ہونا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مشن افراد کی غیر معمولی قابلیت سے زیادہ خلوص اور اللہ کی تائید سے پروان چڑھتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دستیاب افراد اور موجود وسائل کو غنیمت جان کر شکر گزاری کے ساتھ کام کا آغاز کرے اور نتیجہ کلی طور پر اللہ کے سپرد کر دے۔ جو لوگ حاصل شدہ رفقاء کی ناقدری کر کے نامعلوم اور غیر حاضر وسائل کا انتظار کرتے ہیں، وہ درحقیقت عمل کی دنیا سے کٹ کر خواہشات کی دنیا میں جینے لگتے ہیں۔ کامیابی کا راز خدا پر توکل اور دستیاب امکانات کے حقیقت پسندانہ استعمال میں مضمر ہے۔
(a) To take anybody other than God to be worthy of worship is the greatest crime in the eyes of God. No one guilty of this crime can escape punishment. It is the duty of the preacher to save himself from polytheism and to call the people to the Truth, primarily those who are near to him. In order to support the Truth, one has to kill one’s ego. That is why there are very few among the highly placed who are prepared to side with the Truth. It often happens that only those who occupy a lower position in society come forward to do so. This poses a serious trial for the preacher of God’s word. He has to guard himself against holding these persons inferior as others do. They must be given equal status in an Islamic society. The true emissary of the Almighty is one whose relation with his Maker is so strong that he passes his lonely nights in restlessness and is often forced to spring out of his bed. He holds his companions who are kneeling to pray to God in the stillness of the night in such high esteem that they become the centre of his attention.